Amir Liaquat

کل ہی جناب عامر لیاقت صاحب نے دوبارہ جیو ٹی وی نیٹورک جوائن کر لیا ہے اور اپنے پہلے ہی پروگرام میں موصوف نے الفاظ کے ہیر پھیر سے جیو کو فردوس بریں کا چینل ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ، خیر یہ موصوف کا ذاتی ہے اور مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ عموما بحیثیت قوم ہماری اجتماعی یادداشت بہت کمزور ہے مگر اگر پھر بھی آپ کو یاد ہو تو پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں جنوری دو ہزار گیارہ میں صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو دن دیہاڑے ان کے ایک مذہبی جنونی گارڈ ممتاز قادری نے فائرنگ کر کے قتل کردیا اور اس کے کچھ ہی دیر کے بعد دوبارہ اسی اسلام آباد میں وفاقی وزیر مذہبی امور شہباز بھٹی بھی مذہبی جنونی لوگوں کی وحشت کے بھینٹ چڑھ گئے

 جس ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو قتل کیا اور جن مذہبی جنونیوں نے اپنے وحشیانہ جذبات کی تسکین کے لئے شہباز بھٹی کو قتل کیا یہ ان لوگوں کا انفرادی اور ذاتی فعل نہیں تھا بلکہ یہ ایک سوچ اور معاشرے کے شدت پسند رویہ کا عکاس ہے اور اس سوچ کو پیدا کرنے میں جو لوگ کار فرما ہیں، جب تک مملکت خداداد پاکستان کی حکومت ان لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لائے گی اور ان کو سر عام ایسے وعظ کرنے سے نہیں روکے گی جس کے نتیجے میں ایسی سوچ پیدا ہوتی ہے اور لوگ ذرا سے اختلاف پر سر تن سے جدا کرنے نکل پڑتے ہیں اس وقت تک قادری اور اس جیسے جنونی پیدا ہوتے رہیں گے۔ اور اس سلسلے میں صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ پاکستان کی عوام بھی برابر کی ذمہ دار ہے جو ایسے لوگوں کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلتے ہیں جو معاشرے کی رواداری کو برباد کرتے ہیں اور مذہبی جنونیت کو پروان چڑھاتے ہیں ، کیونکہ اگر عوام یہ سوچتی رہے گی کہ مجھے اس سے کیا فرق پڑتا ہے اگر ان لوگوں نے کسی شہباز بھٹی کو یا سلمان تاثیر کو یا احمدیوں کو یا شیعوں کو قتل کر دیا ہے تو اس عوام کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ ایک دن آئے گا جب یہی مذہبی جنونی لوگ آپ سے کسی اختلاف کی وجہ سے آپ کے دروازے پر آپ کو قتل کرنے کے لئے کھڑے ہوں مگر افسوس اس دن وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔پاکستان میں کچھ دیر پہلے عامر لیاقت کی ایک ویڈیو پبلک میں آئی جس میں موصوف کو گالیاں دیتے ہوئے اور بیہودہ مذاق کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا ، اس ویڈیو پر عوام نے بہت غصہ کا اظہار کیا اور عامر لیاقت کے اس فعل کو سخت نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا اور اب جب موصوف واپس جیو ٹی وی پر تشریف لائے ہیں تو عوام کی اکثریت اس بات پر غصہ میں تھی کے عامر لیاقت کی اس ویڈیو کے بعد جیو نے دوبارہ اس کو نوکری کیوں دی ہے اور ہر طرف وہ ویڈیو زیر بحث تھی۔ مگر وہ چیز جو اس سے بھی زیادہ خطرناک اور مہلک ہے اس کی طرف نہ کسی کا خیا ل گیا اور نہ کسی نے اس پر اظہار خیال کرنا پسند کیا اور وہ یہ ہے کہ اگر آپ کو یاد ہو جو کہ نہیں ہوگا مگر میں عرض کر دیتا ہوں، ستمبر 2008 میں رمضان کے مہینے میں عامر لیاقت نے جیو ٹی وی پر اپنے پروگرام عالم آن لائن میں تمام احمدیوں کے واجب القتل ہو نے کا فتوی دیا اور لوگوں کو احمدیوں کے قتل پر اکسایا اور اسی پروگرام کے اگلے دن نوابشاہ میں مذہبی دہشتگردوں نے سفاکانہ طور پر دو روزہ دار احمدیوں کو دن دیہاڑے قتل کر دیا۔ اور اس تمام واقعہ پر پاکستان کی اکثریت عوام کا نہ تو کوئی غم و غصہ دیکھنے میں آیا اور نہ ہی ان کی طرف سے عامر لیاقت کے اس فعل کی کوئی سرزنش کی گئی ۔ اور اب بھی جب عامر لیاقت کا موضوع دوبارہ گردش میں ہے تو عوام کو عامر لیاقت پر اس وجہ سے تو غصہ ہے کے اس نے ویڈیو میں گالیاں کیوں نکالیں مگر اس بات کا کوئی ذکر نہیں کے یہ وہی درندہ ہے جس کے اکسانے پر دو شریف النفس اور محب وطن پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اب عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اگر وہ اسی طرح ان لوگوں کے پیچھے چلتے رہے اور انہیں نفرت اور شدت پسندی پھیلانے کی اجازت دیتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب کوئی ہمیں قتل کرنے کے سفر پر نکل چکا ہوگا، ان مذہبی جنونی پیر تسمہ پا کو اپنے سر سے اتارنا ہوگا۔ اسی طرح حکومت کو بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ پہلے ہی اپنے دو جیالے ان مذہبی جنونیوں کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں اور اگر اب بھی ان کو سر عام لوگوں کے قتل عام کے فتوے جاری کرنے سے نہ روکا گیا تو کل کو کوئی اور اس بھی کی نظر ہو سکتا ہے اور ویسے بھی حکومت اپنی عوام کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار ہے اور یہ ذمہ داری تب ہی پورا ہو سکتی ہے جب حکومت اپنے تمام شہریوں کو ایک ہی نظر سے دیکھے اور ایسے عناصر کے ساتھ سختی کے ساتھ نپٹا جائے جولوگوں کے قتل کے فتوے جاری کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کریں۔ اور آخر پر ہمیں بحیثیت قوم یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر عام لیاقت اور اس جیسے لوگ مذہبی منافرت پھیلاتے رہیں گے تو ہمارے معاشرے میں قادری اور اس جیسے مذہبی جنونی دہشت گرد پیدا ہوتے رہیں گے جو ہر گذرتے لمحے ہم سے زندگی چھینتے رہیں گے۔

Advertisements
Categories: Urdu | Tags: , , , , , , , , , | 2 Comments

Post navigation

2 thoughts on “Amir Liaquat

  1. Waqas

    very bad font 😦
    can’t read any thing….and specially in fever when eyes don’t wanna open

  2. shariz

    Good one

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: