Champion of Human Rights – Pakistan

مورخہ بارہ نومبر دو ہزار بارہ کو پاکستان اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کا تیسری دفعہ نمائندہ منتخب ہوا۔ اس موقع پر پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ملک میں انسانی حقوق کی اقدار کو بلند کیا ہے اور انسانی حقوق پاکستان کے قانون اور نظریہ کا حصہ ہیں۔ اور ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ عالمی برادری نے پاکستان کو ممبر منتخب کر کے پاکستان کی انسانی حقوق کے لئے خدمات کو سراہا ہے۔  اب پاکستان کا انسانی حقوق کی کونسل کا ممبر منتخب ہونا اور اس کے بعد موصوف کے اس بیان کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم صرف پاکستان میں بارہ نومبر کے آس پاس ہونے والے کچھ واقعات کا جائزہ لیتے ہیں، ہم زیادہ تفصیلات میں نہیں جاتے اور گڑھے مردے نہیں اکھاڑتے، حالانکہ لاہور میں سرکاری مسلمان ملا ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگا کر اس محاورے کو احمدیوں کی قبریں تباہ کر کے حقیقت کا روپ دھارنے میں مشغول ہے۔ ہم دیکھتے ہیں  کہ وہ کونسی انسانی حقوق کی خدمات ہیں جن میں پاکستان روزانہ نئے سنگ میل طے کر رہا ہے۔ اور ان واقعات کو دیکھنے کہ بعد آپ خود کہہ اٹھیں گے کہ پاکستان کا انسانی حقوق کی کونسل کا رکن منتخب ہونا عالمی برادری اور خود انسانی حقوق کے منہ پر بہت بڑا طمانچہ ہے۔

پچھلے چند ہفتوں میں دس سے زیادہ احمدی پاکستان میں شدت پسند عناصر کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے اور ان میں سے آٹھ افراد صرف کراچی میں قتل ہوئے ۔ جتنے بھی افراد کو ایسی کاروائیاں کر کے قتل کیا گیا ہے سب کو باقاعدہ ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ پہلے محلے کا مولوی اپنے خطبوں میں احمدیت کے خلاف نفرت اور زہر اگلتا ہے اور احمدیوں کے نام لے کر لوگوں کو ان کے قتل پر اکساتا ہے پھر اس کے بعد بندوق بردار لوگ آتے ہیں اور دن دیہاڑے قتل کر کے چلے جاتے ہیں، پولیس کو دھمکیوں کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے مگر کوئی ایکشن نہیں اور قتل کے بعد پولیس ایف آئی آر بھی نہیں کاٹتی ۔ اسی طرح کل صبح ماڈل ٹاون لاہور میں احمدیہ قبرستان میں مسلح لوگ آئے اور پہلے انہوں نے چوکیدار کو تشدد کا نشانہ بنایا پھر سو سے زیادہ قبروں کی بے حرمتی کی اور کتبے توڑے اور ان کو ملیا میٹ کر دیا۔ ان تمام کتبوں پر اللہ کا نام اور قرآنی آیات لکھی ہوئیں تھیں جن کو توڑ کر خاک میں ملایا گیا۔ اب اصولا تو ان مسلح لوگوں پر توہین خدا، توہین قرآن اور توہین مزہب کا مقدمہ ہونا چاہئے مگر تماشا یہ ہے کہ یہ سارا کچھ اسلام کی خدمت کے نام پر ہوا ہے۔ یہ کونسا اسلام ہے جس کو چودہ سو سال میں کسی زندہ شخصیت سے بھی خطرہ نہیں تھا مگر اب یکدم اسلام کے نام پر بنائی جانے والی ریاست میں اس کو مردہ لوگوں سے بھی خطرہ محسوس ہونے لگ گیا ہے اور اس خطرہ سے نمٹنے کے لئے لوگوں کو مسلح ہو کر فوت شدہ لوگوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے ۔ احمدیوں کی پاکستان میں حالت زار کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے تو ایک احمدی کا پاکستان میں جینا حرام ہے اور وہ ہر وقت اپنی جان ہتھیلی پر لئے پھر رہا ہوتا ہے اور کسی بھی وقت ممکن ہے کہ اسلام کا کوئی فدائی اس کی جان لے لے، لیکن مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا اسلام کی ابھی مزید خدمت باقی ہے ،  اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر کی بے حرمتی کی جائے اور اس کو تباہ کیا جائے شاید پھر کہیں جا کر یہ خدمت مکمل ہوتی ہے۔  اس سارے واقعے کو اب تک چوبیس گھنٹے سے زیادہ گزر گئے ہیں لیکن سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے کچھ حصے کے علاوہ کسی نے اس واقعہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ کسی ٹی وی چینل کو یہ خیال نہیں گزرا کہ جس ملک میں بندر کے کھمبے پر چڑھنے کی خبر کو بریک کیا جا سکتا ہے وہاں سو قبروں کی بے حرمتی کے واقعہ کو بھی بریک نہ سہی آہستہ آہستہ ہی نشر کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح الطاف حسین اور شرمیلا فاروقی کے علاوہ کسی سیاسی پارٹی اور کسی سیاسی لیڈر نے اس پر کوئی مذمتی پیغام دینا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ اگر قبروں کی بے حرمتی پر مذمتی پیغام دیا گیا تو خدشہ ہے کہ لوگ ان کے اسلام کو ناقص سمجھنے لگیں جس سے ان کے ووٹ بینک میں کمی کا امکان ہے۔ اسی طرح جماعت احمدیہ کی باقاعدہ درخواست کے باوجود پولیس ابھی تک باقاعدہ ایف آئی آر کاٹنے سے کترا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ مزید تحقیق ہورہی ہے اس کے بعد دیکھیں گے کہ ایف آئی آر کاٹنی ہے یہ نہیں۔ اب مزید تحقیق سے میری سمجھ میں تو یہی آرہا ہے کہ پولیس یہ تحقیق کر رہی ہے کہ آیا ایسا تو نہیں ہوا کے مردے قبروں میں سے اٹھے اور انہوں نے قبروں کو تباہ کیا اور پھر واپس اپنی قبروں میں لیٹ گئے ، اس کے علاوہ تو تحقیق کا کوئی جواز نہیں بنتا۔  یہ احمدیہ قبرستان ماڈل ٹاون میں خادم اعلی صاحب کے گھر کے پاس ہے مگر انہوں نے حسب روایت نہ کسی قانونی کاروائی کا حکم دیا ہے نہ کوئی مذمتی بیان دیا ہے ۔ خادم اعلی صاحب نے اپنے اس دور میں پنجاب میں احمدیوں پر مظالم کی جو داستانیں رقم کی ہیں اس سے انہوں نے یزید کی یاد تازہ کردی ہے ، خادم اعلی اور ان کی سرکاری مشینری نے احمدیوں کو اذیت پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا، اور رہی سہی کسر آزاد عدلیہ نکال دیتی ہے جو آئے روز کسی نہ کسی احمدی مسجد کے مینار مسمار کرنے کے آرڈر جاری کرتی رہتی ہے اور احمدی افراد کے قتل میں جو افراد ملوث ہوتے ہیں ان کو باعزت بری کردیتی ہے۔ اب اگر دنیا میں یہی معیار ہیں انسانی حقوق ماپنے کے تو پھر چنگیز خان اور ہلاکوخان کو امن کا نوبل پرائز دینا چاہئے۔ موجودہ حکومت جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے نعرے لگاتی ہے اور ضیاء کو ناسور قرار دیتی ہے اس کو چاہئے کہ بیان بازی سے ایک قدم آگے آکر کم از کم ضیاء کے بنائے ہوئے امتیازی قوانین کو تو ختم کرے تاکہ تمام پاکستانی احمدی سکھ کا سانس لے سکیں ، صرف ضیاء کو گالی نکالنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

ابھی ہم ماہ محرم سے گزر رہے ہیں اور صرف محرم کے پہلے دس دنوں میں شیعہ احباب پر اکیاون حملے ہوئے جن میں پچپن سے زیادہ شعیہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور تین سو زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ اور اس کے علاوہ چند دن پہلے ان قاتلوں نے کراچی میں ایک شیعہ باپ بیٹی پر حملہ کیا جس میں باپ جاں بحق ہو گیا اور بیٹی بیچاری شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں موجود ہے اور اسی طرح لاڑکانہ میں ایک معصوم بچی کو انہوں نے قتل کردیا۔ اس ساری صورتحال پر ظلم یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا کہ کچھ حصہ کے علاوہ باقی سارا الیکٹرانک میڈیا اس ساری صورتحال کو مسلسل جھٹلا رہا ہے کہ پاکستان میں رہنے والے شیعہ حضرات کسی قسم کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن رہے ہیں ، بلکہ ان میں سے اکثر ٹی وی چینلز ان حضرات کو جو شیعوں کے قتل میں ملوث ہیں یا ان کے قاتلوں سے مراسم رکھتے ہیں ان کو ائیر ٹائم دیتا ہے اور وہ کھلے عام اپنا قتل عام کرنے کے لئے مزید زمین ہموار کرتے ہیں۔ اور وہ حکومت جو کہتی ہے کہ ہمارا اوڑنا بچھونا ہی انسانی حقوق ہے وہ نہ تو ان کلعدم تنظیموں کو جو شیعوں کے قتل عام میں ملوث ہے کچھ کہتی ہے اور نہ ہی اس ساری صورتحال کو قابو میں کرنے کے لئے کوئی اور ٹھوس قدم اٹھاتی ہے بلکہ اس کی تان صرف موبائل سروس اور موٹر سائیکل سواری پر پابندی پر ٹوٹتی ہے۔ اس حکومت کی مثال اس بندر جیسی ہے جو جنگل کا بادشاہ بن گیا کسی نے اسے کچھ کام کہا تو اس نے پانچ چھ درختوں پر چھلانگ لگانے کے بعد کہا کہ میں نے کوشش تو بہت کی مگر کام نہیں بنا۔

اسی طرح اسی عرصے کے دوران کراچی میں ایک عدد ہندو مندر کو تباہ کر دیا گیا، اگر ایسا کوئی واقعہ کسی اور ملک میں کسی مسجد کے ساتھ ہوا ہوتا تو عوام نے اور میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا کیونکہ ہم انسانی حقوق کے چمپیئن ہیں مگر اپنے ملک میں ہونے والی اس ناانصافی اور انسانی حقوق کی پامالی کسی کو نظر نہیں آتی۔ اسی طرح چند دن پہلے  لاہور میں ایک بائیس سالہ عیسائی لڑکا جس کے خلاف ابھی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی تھی توہین رسالت کے الزام میں پولیس حراست میں ہلاک ہوگیا۔ اور پولیس کا کہنا ہے کہ ہم نے اسے حفاظتی حراست میں رکھا ہوا تھا، اب اگر یہ حفاظتی حراست تھی جس میں اس کی موت واقع ہوگئی تو غیر حفاظتی حراست میں پتہ نہیں کیا ہونا تھا ۔ اب کیونکہ اس لڑکے پر توہین قرآن کا الزام تھا اس لئے کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی کہ کیسے اس کی موت واقعہ ہوئی اور کون اس کا ذمہ دار ہے۔ ویسے اگر اس طرح کے پچھلے مقدمات کو دیکھا جائے تو بیچاری آسیہ بی بی ابھی تک کال کوٹھڑی میں گھٹ گھٹ کر مر رہی ہے تو اگر اس نوجوان کی ہلاکت نہ ہوتی تو شاید یہ بھی اپنی ساری  زندگی کسی کال کوٹھڑی میں اپنے ناکردہ جرم کی پاداش میں ان بھیانک قوانین کی بھینٹ چڑھ کر گزار دیتا۔

اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے  بھیانک امتیازی قوانین کی موجودگی میں اگر پاکستان انسانی حقوق کونسل کا ممبر بن سکتا ہے اور ساری دنیا کے سامنے اپنے آپ کو انسانی حقوق کا چیمپیئن کہہ سکتا ہے تو ایسے حقوق سے اللہ ہر انسان کو بچائے ۔ اصولا تو عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ پاکستانی حکومت پر پریشر ڈالے کہ وہ احمدیوں کے خلاف تمام امتیازی قوانین ختم کرے اور توہین رسالت کے بھیانک قانون کو بھی ختم کرے اور اس کے بعد پاکستان کو انسانی حقوق کونسل جیسے کسی عالمی فورم پر بطور ممبر منتخب کیا جانا چاہئے۔ اور اب اگر آپ اپنے کسی عزیز کو الوداع کہیں تو یہ کہنا ضرور یاد رکھیں کہ اللہ آپ کو اور آپ کے فوت شدگان کو اپنی حفاظت میں رکھے ، کہیں یہ نہ ہو کہ وہ اسلام کی خدمت کی بھینٹ چڑھ جائیں۔

Advertisements
Categories: Urdu | Tags: , , , , , , , , , | 5 Comments

Post navigation

5 thoughts on “Champion of Human Rights – Pakistan

  1. Muhammad Salim Akhtar

    “No one should twist my sentiments and protest as admission of Ahmadias as Muslim. I condemn and protest Human and Civil Rights abuses of Ahmadia Community. No one has the right to deprive any citizen of their human and civil rights, taking the laws in their own hands. I am not a Quadiani, I am a Muslim and I believe the sanctity of every single life regardless of their believes. No law should be misused to abuse or harm any citizens. I wish there is a dialogue to resolve the legal and social issues to make sure that all the minorities including Ahmadia / Quadiani Community, their lives and properties, dignity, civil and human rights should be protected and honored. The perpetrators of crimes against minorities including Ahmadis should be punished to the full extent of the law. The message of Islam is justice, peace and compassion. And Pakistani Ahmadia community should be treated as equal citizens and I expect Ahmadia Community also be mindful of the Laws as well social order.”
    Muhammad Salim Akhtar
    National Director, AMA
    (Permission is granted to print only as is and unedited. Please print unedited as is only.)

  2. salim sahib i believe in freedom of expression so there is no question of your comment not being posted or posted after editing.

  3. Hazoor (saw) ne 1400 saal pehle hi peshgui dedi thi ke jese Bani Israel ke 72 firqe the, wese hi meri Ummat me 73 firqe honge. Or un 73 firqon me sirf EK esi Jamaat hogi jo Jannati hogi.(Ibn Majah, Kitabul Fitn). Are iska faisla ke wo EK Janaati Jamaat kon hai, ye to khud Pakistan ne mil ke 1974 me kardia tha, jab sab ke sab firqon ne mil ke Jamaate Ahmadiyya ko Kafir karaar dedia. Warna to apas me inke kitne ikhtelaaf hain lekin jab bhi us ek Jamaat ki baat ati hai sab ke sab mil jate hain or isko Kafir karaar dete hain.

    Ek choti si or typical si masaal ye ke ek larki ko college se nikaal dia gaya MUSLIM Ahmadi hone ki waja se. College ka jo priinciple tha kehta ke ham apne college me hindu, christian sab ko lelenge, lekin tum Ahmadiyyon ko nahi lenge.
    Wah kya khoob Quran ki Ayat ko pura kar rahe hain, jisme Allah farmata hai ke, jab bhi Allah ki taraf se koi Nabi aya, hamesha hamesha uski or uske maan ne walon ki mukhaalfat ki gayi. (Sura 43, Verse 8)

    Rahi baat ke Ahmadiyyon pe or Shiyon pe jo zulm ho rahe hain to ye to wohi badtareen makhloooq ke hukam se ho rahe hain jinke bare me Aap(saw) ne peshgui di thi. Ye unhi Ulema ke hukam se ho raha hai jo naam ke to Muselaam hain par dil inka fitne se bhara hua hai. Yehi wo hain jo zameen me fitna paida kar rahe hain or afsooos ke baki muselmaan bhi inhi ke baaton me aa kar gumrah ho rahe hain.

    Quran me ata hai ke agar koi insaan kisi dusre insaan ka katal karde to goya wo esa hai jese usne puri insaaniat ka katal kardia ho (Sura Al Maidah Verse 33). Yahan to Ahmadiyyon ko shaheed hi nahi balke unki kabron ko bhi bakhsha nahi jaa raha. Ek esa insaan jisne Qurane Kareem parha ho wo janta hai ke ye hargiz hargiz Islami taleem nahi hai balke Islam ki taleem ke sakht khilaaf hai!

    Pakistan jo apne aap ko muselmaan country kehlata hai “Insaani Haqooq” ki baat kar raha hai. Tareekh se (or is article se) saaf saaf waaze hai ke Pakistan me Insaani Haqooq ka koi naamo nishaan hi nahi hai. Jo hakumat kisi ek Insaan ke Haqooq ko hi nahi samajh saki or dil me pathar rakh ke bethi hai wo Islam ki pyari taleem ko kya samjhegi.

  4. btw very very gud article!!!!this made me really cry…..Allah kare k baki muselmaan bhi haq ko pehchaan jaen Ameeeeen Suma Ameeen
    keep up this good work –> Jihad with pen

  5. shariz

    Bohat acha hay mashallah …:'( 😥

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: