Shia Killing and Public Apathy

شیعہ قتل عام اور عوام کی بے حسی

آجکل رمضان المبارک کا پاک مہینہ چل رہا ہے اور تمام دنیا کے مسلمان خصوصی طور پر عبادت میں مصروف ہیں اور پاکستان میں تو ٹی وی چینلوں نے خصوصی طور پر رمضان کے لئے ٹرانسمیشن شروع کر رکھی ہیں اور اس نیکی کو حاصل کرنے میں کوئی بھی چینل کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتااس لئے ہر چینل نے ہر قسم کے شعبدہ باز رمضان کے نام پر لوگوں پر مسلط کر رکھے ہیں ، کوئی جنوں سے گفتگو کا ماہر ہے ، کوئی سر عام لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کر کے اسلام کی خدمت کر رہا ہے ، کوئی لوگوں کو بھوپال کی خوبیاں بیان کر رہا ہے، غرضیکہ ہر کوئی اپنا کوئی نہ کوئی کرتب دکھا کر اسلام کا نام روشن کرنا چاہتا ہے اور عوام کو رمضان کی برکات سے آگاہ کرنا چاہتا ہے ۔ دوسری طرف اتفاقا کچھ دن پہلے چودہ اگست بھی گزرا ہے اس موقع پر بھی تمام میڈیا نے خصوصی نشریات کا اہتمام کیا اور تمام دن آزادی کے موضوع پر گفتگوکی گئی مثلاً پاکستان کتنا آزاد ہے، اس کے مسائل کیا ہیں ، ہم کہاں کھڑے ہیں ، جناح کونسا پاکستان بنانا چاہتے تھے۔ رمضان اور چودہ اگست کے حوالے سے کئے گئے خصوصی پروگرامز کے علاوہ بھی روزانہ درجنوں فصیح البیان حکمران نما اینکرز کرپشن ، انصاف اور اس سے ملتے جلتے تمام موضوعات پر لب کشا رہتے ہیں ۔
مگر اب دوسری طرف چلتے ہیں ان تمام رمضان ٹرانسمیشنز اور ہم آزاد ہیں ، ہم آزاد ہیں کے پروگرامز کے باوجود چودہ اگست سے دو دن بعد ایک عدد بس کو گلگت میں روکا جاتا ہے اور تمام مسافروں کو اتار کر ان کے شناختی کارڈ چیک کئے جاتے ہیں اور ان میں سے بیس کو شیعہ شناخت کرنے کے بعد گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کر دیا جاتا ہے، ادھر ضمناً میں ایک بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ نادرا کے کمپوئٹرائزڈ شناختی کارڈ کا شاید حکومت اتنا فائدہ نہیں اٹھا رہی جتنا فائدہ یہ دہشتگرد اٹھا رہے ہیں ، اور دوسری بات یہ کے مملکت خداداد میں جتنے بھی اسلام کے ٹھیکیدار ہیں وہ وقتاً فوقتاً حکومت سے یہ مطالبہ کرتے رہتے ہیں کے جس طرح پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ہے اسی طرح شناختی کارڈ میں بھی مذہب کا خانہ ہونا چاہئے ، اب ذرا تصور کریں اس ساری صورت حال میں اگر شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ بھی بنا دیا جائے تو پھر بہتر ہے کے مذہب کا خانہ بنانے کی بجائے سیدھا سیدھا واجب القتل لکھ دیا جائے تاکہ جب بھی کسی مسلمان کو اپنے ایمان کی مضبوطی کے لئے کسی کافر کو قتل کرنا ہو تو وہ شناختی کارڈ چیک کرے اور اپنے ایمان کے تکمیل کر لے ۔ خیر اب میں واپس اپنے اصل موضوع کی طرف چلتا ہوں کے بیس شیعہ مسلمانوں کو شناخت کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے ، اور تھوڑی دیر بعد کوئٹہ میں تین ہزارہ شیعہ قتل کر دیا جاتا ہے اور یہ کوئی پہلا اور آخری واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک جاری مہم کا حصہ ہے، اب اس سلسلے میں حکومت کی کارکردگی ملاحظہ کریں ، وزیر داخلہ رحمان ملک صاحب ہر واردات کے بعد کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے تحریک طالبان، لشکرجھنگوی اور سپاہ صحابہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کا ہاتھ ہے مگر موصوف یہ بھول جاتے ہیں کے ان تنظیموں کو پکڑنا بھی حکومت کی ذمہ داری میں شامل ہو تا ہے ۔ ملک کو امن و امان کی خطرناک صورت حال کا سامنا ہے اور اس تمام صورت حال میں رحمان ملک صاحب کی مصروفیات دیکھیں موصوف گلگت والے واقعہ سے ایک دن پہلے ٹویٹر پر عوام الناس کو یہ بتا رہے ہیں کو ان کو سعودی مفتی صاحب نے مکہ مکرمکہ کے انگلش میں صحیح سپیلنگ بتائے ہیں ۔ اب آگے چلتے ہیں عدالت کی طرف، چند مہینے پہلے عدالت نے ملک محمد اسحاق کو جو کہ ایک کلعدم دہشتگرد تنظیم کا لیڈر ہے اور کھلے عام شیعہ حضرات کو قتل کرنے کے فتوے اور دھمکیاں دیتا ہے، اس کو باعزت بری کر دیا۔ اب وہی عدالت جو انصاف کا لیکچر سناتے ہوئے تھکتی نہیں ہے کیا اس کا یہ عمل ایک مجرمانہ فعل کے زمرہ میں نہیں آتا۔ اب آتے ہیں میڈیا کی طرف ، وہ میڈیا جو دن رات سوئس کیسز سے لیکر بندر کے کھمبے پر چڑھنے کو موضوع بناتا ہے اور کئی سو گھنٹے ائر ٹائم ایسے لوگوں کو بھی دیتا ہے جن کو نہ تو ان کے حلقے میں کوئی پوچھتا ہے اور نہ ملک میں اور نہ ان کے پاس کوئی نئی بات ہوتی ہے کرنے کے لئے مگر یہی میڈیا شیعہ ٹارگٹ کلنگ کو چند گھنٹے بھی نہیں دیتا اور عوام کو نہیں بتاتا کے کون قتل ہو رہا ہے اور کون قتل کر رہا ہے ، اور سوئس عدالتوں کو ڈسکس کرنے والے یہ ڈسکس کرنا مناسب نہیں سمجھتے کے آخر کیا وجوہات تھیں جن کی بنا پر پاکستان کی عدالتوں نے ملک محمد اسحاق اور اس جیسے اور دہشتگردوں کو باعزت بری کر دیا تاکہ وہ اپنا خونی کھیل جاری رکھ سکیں ۔ اب آتے ہیں پاکستان کی عوام کی طرف، چودہ اگست تو منا لیا ہم زندہ قوم ہیں اور ہم سب ایک ہیں گا کر مگر کبھی کسی نے اپنے آپ سے پوچھا بھی ہے کے وہ اپنے علاوہ کسی کو انسان بھی سمجھتا ہے یا نہیں ۔ پاکستان میں جتنے بھی دہشتگرد اور قاتل ہیں جب تک ان کو عوام کی طرف سے سپورٹ ملتی رہے گی اسوقت تک وہ عوام کے گلے کاٹتے رہیں گے۔ پہلے انہوں نے احمدی مسلمانوں کو آپ کے سامنے کافر بنا کر پیش کیا آپ نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور ان کے قتل عام پر کوئی آواز نہیں اٹھائی کے کوئی بات نہیں خیر ہی ہے احمدی ہی تو ہے اب وہ شیعوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اب بھی آپ خاموش ہیں کے خیر ہی ہے شیعہ ہیں نہ، اگراب بھی آپ نے اپنی خاموشی نہ توڑی اور اس نفرت کی آگ کو نہ بجھایا تو کل آپ کی باری ہے پھر آپ کسی سے یہ توقع نہ کریں کے وہ ان قادریوں، لیاقتوں ، اسحاقوں سے آپ کی جان بچانے کے لئے آگے آئے گا
Advertisements
Categories: Urdu | Tags: , , , , , , , , | 1 Comment

Post navigation

One thought on “Shia Killing and Public Apathy

  1. I hope got an answer to extremism and religious motivated hate: The one God gave us different languages, different colours of skin, different weather, different political mainstreams and different historic roots. He gave us different but similar imaginations and stories about us as human beings and about him as the one and only God – but we all believe in the same God – motivated by prophets who told us how to believe in God in similar ways.
    May be we cannot eliminate extremism completely – but we can make sure that they are not allowed to abuse our religion(s) as a reason for their hate.

    Klaus 🙂
    http://www.facebook.com/klaus.marwede

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: