Hate is the Reason

جنوری کے پہلے عشرہ میں کوئٹہ کی شیعہ ہزارہ برادری کے سو سے زیادہ افراد یکے بعد دیگرے ہونے والے دو عدد بم دھماکوں کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی ۔ اس کے بعد مقتولین کے لواحقین نے شہدا کی میتوں کو احتجاجا مطالبات پورے نہ ہونے تک دفنانے سے انکار کیا اور اس کے ساتھ پورے ملک میں اور بیرون ملک بھی ان خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حکومت نے شروع میں سرد مہری کا مظاہرہ کیا مگر آخر کار وزیر اعظم صاحب کو کوئٹہ جانا پڑا اور شہدا کے خاندانوں کو قاتلوں کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی کروائی اور اس کے علاوہ ان کے مطالبہ کے مطابق کوئٹہ کی حکومت کو ختم کر کے وہاں گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا۔

 اس اعلامیے کے نتیجے میں ملک گیر احتجاج ختم ہوگئے اور مقتولین کو دفن کردیا گیا۔ اس وقت وزیر اعظم کے اس اعلان کو ایک عظیم کامیابی کے طور پر دیکھا جارہا تھا اور لوگ سمجھ رہے تھے کہ گورنر راج کے نفاذ سے شیعہ افراد کے جان و مال کو لاحق تمام خطرات ختم ہوجائیں گے، اگر واقعی یہ مسئلے کا حقیقی حل ہوتا تو پھر لازم تھا کے گورنر راج کے نفاذ کے بعد راوی چین ہی چین لکھتا مگر صورتحال یہ ہے کہ آج علمدار روڈ کے واقعے کے ٹھیک پانچ ہفتے کے بعد کوئٹہ کی شیعہ ہزارہ برادری کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں سو کے قریب افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور سو سے زیادہ بری طرح زخمی ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے دیدہ دلیری سے قبول کی ہے، شیعہ افراد کو قتل کرنا لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ اور اس جیسی کئی اور دہشتگرد تنظیموں کا یک نکتہ ایجنڈا  ہے۔  اب پھر احتجاج کا ایک سلسلہ شروع ہوا چاہتا ہے اور مختلف اطراف سے مختلف مطالبات سامنے آرہے ہیں جن میں سے ایک مطالبہ ہے کہ کوئٹہ کو فوج کے حوالے کردینا چاہئے ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عملا ایف سی پہلے ہی شیعوں کے جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر یہ خون و کشت کا کھیل کب تک جاری رہے گا اور اس کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔  اس مسئلے کا حل نہ گورنر راج ہے اور نہ فوجی راج ہے بلکہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے پہلے اس کی وجوہات جاننی ضروری ہیں ۔ کوئٹہ میں خصوصا اور پورے ملک میں عموما شیعوں کا جو قتل عام ہورہا ہے اس کی وجہ وہ نفرت ہے جو نام نہاد مذہبی ٹولہ پورے ملک میں خطبوں ، وال چالکنگ ، میڈیا اور لٹریچر کے ذریعے پھیلا رہا ہے اور جس کے ذریعے لوگوں کو مذہبی طور پر متشدد بنایا جا رہا ہے اور ان کو کچھ مخصوص مذہبی گروپوں کے سوشل بائیکاٹ اور قتل عام پر اکسایا جا رہا ہے۔  اس نفرت اور تشدد کا صرف شیعہ حضرات ہی نشانہ نہیں بن رہے بلکہ احمدی مسلمان  بھی کئی دہائیوں سے اس ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور اس کے علاوہ غیر مسلم بھی ان نفرت کے سوداگروں کے نشانہ پر ہیں ۔ایک وقت تھا کہ احمدیوں کو بری طرح مارا پیٹا جا رہا تھا مگر سارا معاشرہ خاموش تھا اور سب کو یہی گمان تھا کہ شاید ہم پر کبھی یہ زمانہ نہیں آئے گا مگر آج ہم خود گواہ ہیں کہ شیعہ اسی مذہبی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ جب آپ کسی ایک گروہ یا فرقہ کے لئے نفرت کا بازار گرم کرتے ہیں تو ایک وقت آتا ہے کہ نفرت کی وہ آگ باقی لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔

اب اگر آج شیعوں کا قتل عام روکنا ہے اور کل کو اس نفرت کا ممکنہ شکار بننے والے دوسرے گروہوں کو جن میں بریلوی اور صوفی شامل ہیں بچانا ہے تو آج ایسے تمام پاکستانیوں کو جن کے دل شیعوں کے قتل عام پر خون کے آنسو رو رہے ہیں  اس نفرت کے خلاف یکجا ہونا ہوگا اور ہم سب کو پہلے اپنا جائزہ لینا ہوگا کہ کہیں ہمارے دل میں تو اپنے کسی ہموطن کے لئے مذہب ، زبان یا علاقہ کی بنیاد پر کوئی نفرت کے جذبات تو نہیں ہیں، اگر ہیں تو ہمیں فورا ایسے جذبات کو اپنے دل سے نکال باہر کرنا چاہئے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی ہی نفرت کے سمندر میں غوطے کھا کر مر جائیں۔ اس کے بعد ہمیں اپنے ماحول کا جائزہ لینا چاہئے کہ کہیں ہمارے ارد گرد تو کوئی نفرت نہیں پھیلا رہا اور لوگوں کو ان کے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر واجب القتل تو نہیں قرار دیا جا رہا ، اگر ایسا ہے تو ہمیں اپنا پورا اثرو رسوخ استعمال کر کے نفرت کی ایسی فیکٹریوں کو بند کرنا ہوگا اور لوگوں کو اس نفرت کے خطرناک انجام سے مطلع کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہمیں میڈِیا کے تمام ایسے پروگراموں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے جو مذہبی منافرت پھیلانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد ہم سب کو یکجا ہو کر حکومت سے بجائے گورنر راج یا فوجی راج کے نفاذ کا مطالبہ کرنے کہ یہ مطالبہ کرنا چاہئے کے حکومت ان عناصر کے خلاف سخت ایکشن لے جو ملک میں منافرت پھیلا رہے جن میں لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ ، تحفظ ختم نبوت اور ان جیسی کئی دیگر دہشتگرد تنظیمیں شامل ہیں ۔اور اس کے علاوہ گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ آئین پاکستان سے ایسے تمام قوانین کو ختم کرے جو نفرت یا امتیاز پر مبنی ہیں. اگر ان نفرت کی فیکٹریوں کی پیداوار بند ہوجائے تو پھر ہی پاکستان میں شیعوں اور دوسرے مذہبی گروہوں کا قتل عام رک سکتا ہے۔

لیکن اگر آج ہم نے اپنا کردار ادا نہ کیا اور نفرت کے خطرناک نقصانات کو نہ بھانپا تو پھر کل کو ہمارے عزیز و اقارب  ہماری میتوں کے ساتھ کسی کوئٹہ میں انصاف کے لئے احتجاج کر رہے ہوں گے۔ زندگی آپکی ملک آپکا نفرت یا محبت انتخاب آپکا۔


You can read the English version of this article here.

Advertisements
Categories: Latest, Urdu | Tags: , , , , , , , , , , , | 7 Comments

Post navigation

7 thoughts on “Hate is the Reason

  1. Muhammad Khan

    well said

  2. Naqvi

    Hakumat Bik Chuki hai…. Sab Pakistani Beghairat hain…. Kal k blast me 50 Aurtain aur bachay Shaheed huay laikin kisi kko koi fark nai parta…
    😦

  3. well written and the problem well identified .. but I dont agree with your solutions – you are asking the govt to arrest and prosecute these people. These religious extremists are supported covertly (and sometimes overtly) by the state machinery AKA- the army and the ISI .. for using them in Afghanistan and Kashmir to fight a covert war and form a pressure group through terrorism .. how can these agencies go against their own children.

    The solution is to take the war back to these terrorists. It may sound radical but that is the only solution left .. maybe 20000-30000 people will be killed but once for all these organisations will be uprooted.

    You are very right that we should check our neighbourhood if any imam or organisation spreading the religious hatred .. when you find people like this you should use force to first of all beat them up and then banish them from your community.

  4. ghulam raza

    well said shoaib ahmad bro. . .

  5. Ifsoss.

    Love for All
    Hatred for None

    Das ist alls

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Create a free website or blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: